Tuesday, March 13, 2012

Lesson 83 Surah Al-Anaam. (93-110)

93) Three is no one worse transgressor than three kind of people:
1) Someone who plants a lie on Allah SWT. I.e. someone who equates another entity to God.
2) Someone who claims to have received revelation, when no such thing has been given to him.
3) Someone who claims I shall descend like what Allah Has Descended.

These kinds of transgressors will be in trouble the moment death comes upon them. When angel of death will open their arms and command them to be out with their souls.

سبق ٢٥٧

سوره زخرف آیت ٢٦ - ٥٦ :

نحمدہ و نصلی  علی رسولہ  الکریم. امّا بعد .

٢٦ : براء مصدر ہے، لیکن اسم صفت کے طور پر استعمال ہوا.ابراھیم  علیہ السلام بتوں سے بیزار تھے.انہوں نےیہ بات کب کہی؟ پچھلی آیات میں آباواجداد کی اندھی تقلید کی بات تھی . اسی کو برا کہا اور   condemn  کیا جا رہا ہے. اسی سے بیزاری کا کھلم کھلا اعلان کیا. ابراھیم علیہ السلام نے کہا کہ  مجھے امید ہے کہ میرا رب میری ہدایت کرے گا. اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے انکی ہدایت کی. حجت تمام کی. نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نےاعلان برأت سوره توبہ کے نزول پر ٩ ہجری میں کیا. اس بات کا اعلان کیوں ضروری ہوتا ہے؟ کیوں کہ ایک انسان اگر برائی کو دیکھ کر خاموش تماشائی بنا رہے تو وہ ان ہی میں شمار ہوتا ہے. اسی طرح جیسے ایک انسان مسلمان بننے کے لئے اپنے ایمان کا کھلم کھلا اظہار کرتا  ہے. و ما لی لا آعبدوالّذی فطرنی والیہ ترجعون.  
عبادت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اللہ کے ہی وفادار ہوں. و من احسن قولا ممّن دعا الی اللہ و عمل صالحا و قال اننی من المسلمین. ابراہیم علیہ السلام  کا طرز عمل نہ صرف انکے لئے ہے بلکہ انکے بعد آنے والےتمام لوگوں کے لئے ہے.ایک وقت ایسا ہوتا ہے کہ انسان سمجھانے کے دور سے گزرتا ہے . پھر حجت تمام ہونے کے بعد حق اور باطل کو کھول کر اس سے برأت کرنا ضروری ہے. ہم کیا کرتے ہیں؟ ہم دوسروں کو سمجھانے سے پہلے ہی الگ ہونا چاہتے ہیں.

 ٢٨،٢٧: کس بات کو؟ توحید کی بات کو. بعد میں آنے والی نسل کو. دعایئں بھی کیں .اپنی اولاد کی بھی فکر کرنی ہے.عقبه:بطور استعارہ: یعنی آنے والی نسل کو. کیا تاکید کی؟ کہ نہ مرنا حتیٰ کہ مسلم ہو. قال انی جاعلک للناس اماما.قال و من ذریتی. قال لا ینال عہدالظالمین. ظالموں کو میرا وعدہ نہ پہنچے گا. ابراہیم علیہ السلام  جب کعبہ تعمیر کر رہے تھے. توکہا. و جعلنا مسلمین لک و من ذریتنا امّتہ مسلمہ لک.
یہ ہے ابراہیم کا اسوہ حسنہ جسکی ہم کو پیروی کرنی ہے.  صرف خود مسلمان نہیں بننا بلکہ دوسروں کو بھی اور انے والی نسلوں کو بھی. انسان اپنے بعد اپنے بچوں کا سب سے زیادہ خیر خواہ ہوتا ہے.  من یرغب عن مله ابراہیم الا من سفہ نفسه

٣٦٠ بت مکّہ میں آگیے. کیوں؟ آھستہ آھستہ آباواجدادنسل دار نسل لے اے. ہم بھی اپنے دلوں کو ٹٹول کر دیکھیں.
٢٩: :اہل مکّہ کے بارے میں ہے. حق سے مرد قرآن مجید، توحید کا پیغام.
٣٠ :کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے.
٣١ :قریتیں سے مراد :طائف اور مکّہ: ولید  بن مغیرہ، جسکو ریحانہ القریش اورعروہ بن مسعودثقفی جو طائف کے تھے.
٣٢ :نبوت تو اللہ کی دی ہوئی ہے. دنیاوی معاملات میں تو بعض کو بعض پر فوقیت دی، تاکہ ایک دوسرے سے کام لے سکیں. با معاوضہ کام لے سکیں. اللہ  تعالیٰ  نے اونچ نیچ  دنیا  کا انتظام چلانے کے لئے بنائی  ہے.
٣٣، ٣٤، ٣٥ :اگر یہ ڈر نہ ہوتا کے سب لوگ کفر میں پڑ جایں گے تو انکو سونا چاندی کے گھر اور چھتیں دے دیتے . لیکن یہ سب دنیا کی زندگی کا سامان ہے. ایک حدیث میں آتا ہے کہ: لو کانت الدنیا تزن عنداللہ جناح بعوضۃ ما سقےمنہا کافراشربه ماء : "اگر اللہ کے نزدیک دنیا کا وزن ایک مچھر کے پر کے برابر بھی ہوتا تو وہ کسی کافر کو ایک گھونٹ بھی نہ دیتا" (ترمذی،ابن ماجہ،کتاب الزھد). اللہ کے کاموں کے لئے،حق کے لئے یا نبوت کے لئے،  ان بنیادوں پر نہیں چنا جاتا. دل اور اعمال دیکھتا ہے .
 ٣٦ : وجہ بتائی جارہی ہے. عشاء: رات کا وقت، عشوأ: اندھی اونٹنی کو کہتے ہیں.قیض: انڈے کے چھلکے کی طرح شیطان انسان کو گھیر لیتا ہے. قرین ساتھی کو کہتے ہیں. قرآن راہ دکھلاتا ہے.
٣٨ ,٣٧  : شیاطین غافل شخص کو روک کر رکھتے ہیں سیدھے راستے پر جانے سے. اپنی کوئی برائی نظر نہیں آتی. حتیٰ کہ وہ جب ہمارے پاس آتا ہے (آخرت میں(. مشرقین:صیغہ تغلیب: مشرق و مغرب. تو کتنا برا دوست تھا! شیطان صرف جنوں میں سے نہیں، انسان میں بھی ہوتے ہیں.
 ٣٩ :اب تو ہمیشہ کی دوستی باقی رہے گی جہنم میں. حشر اسی کے ساتھ ہوگا انسان جس سے محبّت کرتا ہوگا. آج کوئی فائدہ نہ ہوگا.
٤٠:
٤١:
٤٢ :عذاب دینے کی قدرت رکھتے ہیں.
٤٣ : پکڑ کر رکھو قرآن کو، حل کیا ہے؟ قرآن کو مضبوطی سے تھامنا. آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو کہا جا رہا ہے.  قرآن ہم کو اجنبی لگتا ہے. قرآن کو پکڑنے کے طریقے آنے چاہیے.خود پکڑیں، مختلف طریقے سوچئے اس کو پکڑنے کے.کچھ نہ کچھ لکھا کریں اور پھر دوسروں کے ساتھ share کریں.
٤٤ : ہر انسان کے اندر خود کو منوانے کی خواہش ہوتی ہے.وہ عزت جو قرآن سے ملتی ہے وہ کسی اور چیز سے نہیں مل سکتی.قرآن نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی عزت کاسبب بنتا ہے.تم سے حساب بھی ہوگا،کیونکہ اللہ نے انکو چن لیا تھا.
٤٥ : پوچھئے، کیسے؟ انکے علما سے.کہ کیا بنایا ہم نے رحمٰن کے علاوہ کسی اور کو عبادت کے لایق بنایا؟ ہر پیغمبر توحید کا ہی پیغام لیا.
  ٤٦ : موسیٰ علیہ السلام کی نشانیوں پر ہنستے تھے.
٤٧:
    48,49:   ایک کے بعد ایک مصیبت بھیجی، اور وہ موسیٰ  علیہ السلام سے دعا کرواتے.
٥٠ :پھر جب انسے دور کر دیا عذاب کو، وہ توڑ دیتے تھے، عھد کو.نکث: بنی ہوئی چیز کو ادھیڑ دینا.
 : 51 فرعون نے اپنے خدا ہونے کا دعوا کیا.مصر کی زرخیزی پراسے  فخر تھا،
٥٢ :مہین: ذلیل، باریک، بے وقعت . کیا میں اس سے بہتر نہیں ہوں؟اسکو تو بولنا بھی نہیں آتا.موسیٰ علیہ السلام کی لکنت کی طرف اشارہ تھا.
  53 :موسیٰ  علیہ السلام کے ساتھ بھی یہی کہا گیا کہ اسکو سونے کے کنگن کیوں نہ پہناۓ گئے؟اور ساتھ میں فرشتے کیوں نہیں ،
٥٤ :عقل کا کمزور پایا. ان سب نے فرعون کی بات ماں لی.فرعون نے اپنی قوم کو بیوقوف بنا لیا.
٥٥ :بار بار کی ناسمجھی کر کے ہم کو شدید غصّہ دلایا. اسف : ایسا غصّہ جس میں شدّت بھی ہو اور افسوس بھی ہو.اہل مکّہ کو بھی یہ بتایا جا رہا ہے.
  56 :سلف: سالف کی جمع. سلف: وہ تجارت جس کی قیمت پہلے دے دی جائے. Advance. اسلاف: پیش رو. امام. اور مثال ، قابل عبرت.قوم فرعون کا انجام برا ہوا.