١: طور پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام سے خطاب کیا تھا. وادی کو ذی طویٰ کہا جاتا ہے. جبل حرا کے بعد سب
سے زیادہ مقدّس، اور افضل پہاڑ. بقعہ مبارکہ کہا جاتا ہے.
٢: کتاب مسطور : لکھی ہوئی کتاب. وادی سینا میں تورات ملی تھی موسیٰ علیہ السلام کو. یا تو تورات مراد ہے یا پھر قرآن. بہت ہی عظمت والی چیزوں کی قسم کھائی جا رہی ہے. سطر قطار کو کہتے ہیں.
٣: رق : پتلی اور نرم چیز کو. چمڑے پر لکھی گیی. منشور: کھلی ہوئی. مراد قرآن مجید.
٤: آباد کیا ہوا گھر. خانہ کعبہ مراد ہے یا پھر وہ جو ساتویں آسمان پر جہاں ابراھیم علیہ السلام کو بھیٹے دیکھا.ہر وقت طواف ہوتا رہتا ہے. آباد رہتا ہے . دن ہو یا رات. دنیا میں اتنی رونق کہیں اور نہیں ہے.
٥: سقف : چھت : مرفوع : اونچی.
٦: بھرا ہوا سمندر. یا تو زمین کا سمندر، یا پھر عرش کا سمندر. راجح بات زمین کا سمندر ہے.روکا ہوا. سمندر کئی بار اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتا ہے کے مجھے اجازت دیںتو میں لوگوں کو ڈبو دوں.
یہ سب بڑی بڑی چیزیں ہم کو اللہ کی یاد دلاتی ہیں. اللہ کی نشانی اور قدرت کی .
اللہ کا عذاب آنے والا ہے. قرآن پاک کی سخت آیتوں میں سے ہے. حضرت عمر نے یہ آیت پڑھی تو ایک سرد آہ بھری اور ٢٠ دیں تک بیمار رہے. لوگوں نے عیادت کی اور پوچھا کے کیا ماجرا ہے. تو انہوں نے بتایا کے یہ آیت میرے دل سے نہیں جاتی. کہ کہیں زمین کا لاوا نہ پھٹ پڑے ، کہیں ھوا بے لگام نہ ہو جاۓ، کہیں بارش زیادہ نہ ہو جاۓ .پہاڑ کسی وقت بھی غبار کی طرح اڑا ے جا سکتے ہیں.
کوئی اس عذاب کو دور نہیں کر سکتا.
جبیر بن متن جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، تشریف لاے ، بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سوره طور پڑھ رہے تھے. وہ اس آیت کو سن کر ایمان لے اے.
٩: آندھی کی وجہ سے درخت کے جھولنے کو کہتے ہیں مور آسمان کا ہلنا، قیامت کے دن آسمان اپنا توازن کھو دے گا.
١٠: اور پہاڑ چلنا شروع کر دیں گے.
١١: پس ہلاکت ہے اس دن.
جھٹلانے والوں کے لئے. وہ لوگ جو بیکار باتوں میں الجھے ہوئے ہیں.جو اپنا وقت بیکار کے تبصروں میں لگا دیتے ہیں.ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم کن باتوں میں لگے ہوئے ہیں.لا حاصل،کھل تماشے کی باتوں پر، لوگوں کے بارے میں تجسّس . ان کو خوض کہتے ہیں.فضولیات.صرف مشرکین مکّہ کے لئے نہیں ہے. ہم سب کے لئے ہے.
جس دن وہ دھکے دے جایں گے جہھنم کی طرف، ان سے پوچھا جاۓ گا.اسی کو تم جھٹلاتے تھے؟ یہ جادو نظر آتا ہے تم کو؟ کیوں کہ وہ وحی کو جادو کہا کرتے تھے. پھر صبرکرو یا نہ کرو، اس تکلیف کو دور نہ کر پاؤ گے.
بیشک متققی لوگ باغوں میں ہوں گے. ھنس مکھ ہوں گے.اللہ کی طرف سے ملنے والے انعامات پر. اور ان کا رب ان کو عذاب سے بچا لے گا، کیوں کے انہوں نے اپنے رب سے دنیا میں عذاب سے نجات کی دعا مانگی تھی.
ھنا: پر لطف ، خوشگوار.
بما: بوجہ : سبب کی" ب" ہے. عوض کی نہیں.
تکیہ لگاۓ ہوئے ہوں گے، ایسی مسندیں جو قطار در قطار ہوں گی. آرام دہ ہوں گی.
اور ہم ان کو بیاہ دیں گے بڑی آنکوں والی سے. یعنی خوبصورت عورتوں سے.
اور جو لوگ ایمان لاۓ، اوران کی اولادیں جنہوں نے اپنے ماں باپ کا اتباع کیا، ان کو ملا دیں گے.وہاں اکہٹا کر دیں گے. اولاد کی دعا سے ماں باپ کے درجات بلند ہوں گے.
انسان جب فوت ہو جاتا ہے تو اسکا اپنا عمل ختم ہو جاتا ہے. مگرتین چیزیں جن کا ثواب جاری رہتا ہے.١) نیک اولاد کی دعا،٢) وہ علم جس سے لوگ فیضیاب ہوں. اور٣) صدقہ جاریہ.
ہر شخص اپنے اعمال کی بنا پر گرفتار ہے.جو عبادت کرے گا وہ اپنے آپ کو چھڑا لے گا، کچھ لوگوں کو شفاعت کام اے گی.جن کے نہ اپنے عمل اچھے اور نہ انکو کوی شفاعت دے، وہ گرفتار رہیں گے.
اور ہم انکو(متقی لوگوں کو) دیتے جایں گے،مدد طویل اور پھیلی ہوئی چیز کو کہتے ہیں،یعنی سلسلہ جاری رہے گا.
اور گوشت اس میں سے جو وہ چاہیں گے.
چھینا جھپٹی کریں گے، شراب جام پر.ایک دوسرے کو پیش کریں گے،کوئی بد مزاجی نہ ہو گی.انس اور قلبی شرح صدر. نہ ہی کوئی گناہ کا کام ہو گا.نہ ہی بے ہودہ بات ہو گی.
جنّت کے خادمین ہوں گے. ایک آواز پر ایک ہزار خادم لببک کہیں گے، کیوں کہ دنیا میں انہوں نہ اللہ کی پکار پر لببک کہا. ایسے خادم ہوں گے صاف ستھرے جیسے ڈبّے میں بند موتی.
انکو دیکھ دیکھ کر ہی دل خوش ہو گا.
اور آپس میں بات کرتے وقت ایک دوسرے کی طرف توجہ کریں گے.
ایک دوسرے سے سوال کریں گے، حال پوچھیں گے.
کہیں گے، اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے بیچ میں ڈر اور فکر ان کے لئے لے کرشفقت کے ساتھ رہتے تھے. ڈرنے والے تھے،١) گھر والوں کے لئے کہ کیں وہ برے انجام کو نہ پہنچیں ٢) جب ہم گھر والوں کے ساتھ بھیٹے ہوتے تھے تو ہم اللہ سے ڈرتے تھے.اللہ سے ڈرنے والے اندر اور باہر ہر جگہ ایک ہی طرح رہتے تھے. اہل: بیوی، پھر بچے. جب ایک انسان اللہ سے ڈرتا ہے اپنے اہل میں تو وہ پھر انصاف سے کام لیتا ہے. حسن معاملہ کرتے تھے. تو پھر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور بچا لیا ہم کو سموم کے عذاب سے. سم کہتے ہیں زہر کو، عذاب السموم ، زہریلا عذاب. گھر والے سب ہر وقت اللہ تو یاد کرتے تھے. اور عذاب سے بچاؤ کی دعا کرتے تھے.
ریب المنوں سے مراد گردش زمانہ.
پس نصیحت کیجئے . لوگ آپ پر الزام لگاتے ہیں. کہ کاہن ہیں.ایک عام مرض تھا اس زمانے میں .
بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے. قرآن جیسی بات لے کر ایں. کیا وہ بے مقصد پیدا کے گئے، یا وہ خود ہی خالق ہیں؟ کیا انکے پاس ہیں خزانے رب کے. مصیطر: وہ شخص جو کسی چیز پر مسلّط ہو، ذمّہ دار ہو.
اسکے لئے تو ہوں بیٹیاں اور تمہارے لئے بیٹے؟ یہاں پر انکے سارے سوالات کے جواب میں ان سے سوال کے جا رہے ہیں.
کیا انکے پاس غیب کا علم ہے.
٤٥: یوم سے مراد یا تو بدر کا دن یا پھر قیامت کا دن.
٤٧: دون ذالک : دنیا کے عذاب کے علاوہ.
٤٨: حین تقوم : نماز کے قیام میں، مجلس کے اختتام پر، سونے سے بیدار ہونے پر.
٤٩: رات میں سونے سے پہلے تسبیح.اور قیام الیل کے وقت.
ہمارے لئے سبق اس آیت میں: اللہ کی عبادت ، پھر صبر سے کام لیتے ہوئے تبلیغ اور دوسرے کام اللہ کی راہ میں کریں اور لوگوں سے تکلیف پہنچے تو تسبیح سے کام لیں.