Tuesday, September 25, 2012

سورة المزمل

سورة المزمل  


تمہید: ز کے اوپر شد ھے.باب تفعل. متزمل سے پھر مزمل. پہلا رکوع مکّی ھے اور دوسرا رکوع: اختلاف راۓ ھے. بعض کہتے ہیں کے ایک سال بعد نازل ہوا، بعض کہتے ہیں مدینہ میں نازل ہوا. اس پارے کے مرکزی مضمون، دعوی الی الله، کے حوالے سے، اس سورت میں دعوت دینے والے کو جس ھتیار سے لیس ہونا چاہیئے، جو اخلاق اسکے اندر ہونا چاہیئے، اسکا ذکر ھے. الله سے تعلق. سورة المزمل ابتدائی سورتوں میں سے ھے. وحی کے آغاز میں ہی فرعون کا ذکر کر دیا الله تعالیٰ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سورت میں. اس لئے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مکّہ میں ایسے ہی لوگوں سے واسطہ پڑتا تھا. 

١: یا: حرف ندا ھے. ھا: حرف تنبیہ. معرف بللام. متزمل: ت ز میں ضم ہو گیا. اے کمبل میں لپیٹے جانے والے. کیونکہ جبریل عليه السلام سے ملنے کے بعد خدیجہ رضی الله عنہا کے پاس آ کر کمبل ڈالنے کو کہا. عربوں میں، کسی کو اسکے حال کا ذکر کر کے بلایا جائے تو اپنایت کا اظھار ہوتا ہے.ایک دفعہ حضرت علی کرم الله وجھہ حضرت فاطمہ  رضی الله عنہا سے تھوڑا ناراض ہو ئے تو جا کر مسجد کے فرش پر لیٹ گئے ، اور ان کو فرش سے  تھوڑی مٹی لگ گیی. آپ صلی الله علیہ وسلم انکو ڈھونڈتے ہو ئے آے تو انکو پکارا، "یا ابو تراب".  ابو ہریرہ جن کو بلیوں سے پیار تھا انکا کنیت ابو ہریرہ اسی وجہ سے پڑ گیا. الله تعالی نے اس حالت کو ، کمبل میں لپٹے ہو ئے،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یاد کرایا. "کملی والے" صلی اللہ علیہ وسلم .اب تو کام کا وقت ہے.

٢: قم:  لیٹا ہے تو اٹھ کے بیٹھ جاے، بیٹھا ہے تو اٹھ کھڑا ہو. چل رہا ہے تو رک کر کھڑا ہو جاۓ. یہاں قیام سے مراد نماز ہے. تہجد. پوری رات نہیں. تھوڑی.

٣: آدھی، یا تھوڑا سا اس میں سے کم.

٤: یا آدھے سے کچھ زیادہ کر لو. اندازے سے. وقت کا کوئی پیمانہ نہ تھا. ہمیں تو ہر تھوڑی دیر کے بعد گھڑی دیکھنا پڑتی ہے. لیکن الله تعالیٰ نے ہمارے جسم میں گھڑی بنایی ہے. اگر ہم اصول کے پابند ہو جایں. تو وہ گھڑی بھوک، نیند اور دوسرے اوقات بتا دیتی ہے. اگر ہم بھی فطرت پر آجایں. فطرت پر تھے پہلے دور کے لوگ.
 اس قیام میں کیا کرو؟ قرآن کو ٹھر ٹھر کر پڑھو. رتل: کسی چیز کی خوبی، آرائش اور بھلائی. ترتیل:  خوبصورتی سے،مناسب طریقے سے پڑھنا. ایک ایک حرف کو حسن ادائیگی کے ساتھ ادا کرنا، ٹھراؤ کے ساتھ پڑھنا. ابن عبّاس کہتے ہیں: ترتیل، کھول کر پڑھنا ہے. ابن مسعود کہتے ہیں: جس طرح تم ردي کھجوریں جلدی جلدی  پھیکتے ہو، اس طرح نہ پڑھو. اور نہ اس طرح کہ جیسے بال کاٹتے ہو، اس طرح بھی نہ پڑھو. بلکہ جب کوئی نادر نقطہ آجاۓ تو دل کو متحرک کرو، دل لگا کر پڑھو اور سمجھو اور سورت کے ختم ہونے پر دھیان نہ دو. آہستگی کے ساتھ خوبصورتی بھی ہونی چاہیے. حسن بصری نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ ایک آیت کو پڑھ رہا ہے اور رو رہا ہے. تو انہوں نے کہا، یہی ترتیل ہے. رونا جبھی آے گا جب سمجھیں گے.تو کیا کیا شامل ہے؟ آہستگی، اطمینان، ٹھراؤ، سمجھ، خوش آوازی، کھول کر پڑھنا،اور حسن صوت اور رونا.   بیہکی کی ایک روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: اے قرآن والو، قران کو سرہانہ نہ بناؤ.( یعنی تکیہ) . اور اوقات شب و روز میں اسکی تلاوت کرو. جیسا حق ہے ویسی تلاوت کرو. اسی طرح حضرت انس سے نبی اکرم کی تلاوت کا طریقہ پوچھا گیا: تو انہوں نے کہا کے آپ الفاظ کھینچ کھینچ کر پڑھتے تھے. مثلا انھوں نے بسم الله الرحمان الرحیم پڑھ کے بتایا کے وہ الله اور الرحمان اور رحیم کو  مد کے ساتھ پڑھتے تھے. ام سلمہ سے یہی سوال کیا گیا. تو انہوں نے بتایا: حضور صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک آیت الگ الگ پڑھتے، اور ہر آیت پر ٹھر جاتے.  مسند احمد کی روایت ہے. ترمزی کی روایت ہے ام سلمہ کہتی ہیں :آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایک لفظ واضح طور پر پڑھتے تھے. صحیح مسلم کی روایت ہے، حضرت حذیفہ کہتے ہیں کہ ایک دفع میں رات کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سات نماز میں کھڑا ہو گیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرات کا یہ انداز دیکھا کہ جہاں الله کی تسبیح کا موقعہ آیا وہاں تسبیح کی، جہاں دعا کا موقع آیا وہاں دعا کی، جہاں الله کی پناہ کا موقع آیا وہاں پناہ مانگی. یہ آداب ہیں جن کا خیال رکھنا چاہیے. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پرجب یہ حکم نازل ہوا "و رتل القرآن ترتیلا" تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تلاوت کا انداز صحابہ  کرام نے دیکھا کہ وہ نہ صرف الفاظ اور حروف اور معنی پر ہی غور نہیں کرتے تھے بلکہ آیت کا حق اس طرح ادا کرتے کہ جب تسبیح کا حکم آتا تو تسبیح کرتے، جب جہنم و جنت کا ذکر آتا تو اسکے مطابق دعا کرتے.      
 رتل: حکم ہے، ترتیل سے پڑھنے کا.
تجوید: بھی ضروری ہے. ترتیل اور تجوید کا اہتمام ضروری ہے. کیوں کہ اسی طرح یہ نازل ہوا اور اسی طرح ہم تک پہنچا.
 ر ت ل: عمدہ گفتگو. ٹھر ٹھر کر پڑھنا. تعلیم دیتے وقت بھی. جو دوسرے کی سمجھ میں آے.   صحابہ کرام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ سے نکلنے والے الفاظ گن سکتے تھے. کلام الرتل: خوبصورت کلام کو کہتے ہیں.
ج و د: حروف کو ستھرا کرنا، قرآن مجید کی تلاوت اس طرح کرنا کے اعراب کی غلطی نہ ہو. خود الله تعالیٰ  نے اسی طرح پڑھا: و رتلناہ ترتیلا.
تجوید الحروف، والمعرفہ الوقوف. ترتیل اور تجوید کے لئے effort ضروری ہے. جب تک خود ادا نہیں کریں گے، شرم کے بجاۓ، کوشش کریں خوبصورتی سے پڑھیں. حدیث میں آتا ہے: قرآن کا ماہر مہارت رکھنے والے انبیا اور فرشتوں کے ساتھ ہوگا. ایک اور جگہ فرمایا: قرآن کو اپنی آوازوں سے زینت دو. ایک اور جگہ: جس نے قرآن خوبصورتی کے ساتھ نہ پڑھا وہ ہم میں سے نہیں. حضرت عبدللہ بن عمر سے روایت ہے، نبی اکرم نے فرمایا: قیامت کے دن صاھب قرآن سے کہا جا گا، پڑھتا جا اور چڑھتا جا، اور آھستہ آھستہ پڑھ، جس طرح دنیا میں آھستہ آھستہ پڑھتے تھے، تو تمہاری منزل وہ آخری آیت ہو گی جو وہ پڑھتا ہے. یہاں حفظ کی بات نہیں ہو رہی: صاحب قرآن کہا ہے. امید کی جاسکتی ہے کے جس کا بھی قرآن کے ساتھ تعلق ہو اسکو بھی امید ہے کہ پڑھنے اور اپر چڑھنے کا موقع ملے گا، واللہ اعلم.
پڑھتے وقت کے ادب بھی ضروری ہیں. منہ کو ٹیڑھا کر کے یا بہت بھری آواز میں.کوشش کر کے Natural  رھنے دیں.

٥: کیا بات؟ مراد قرآن. بعض نے اسے نبوت کی ذمہ داری بتایا ہے. لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ قرآن ہی ہے. "لو انزلنا هذا القرآن علی جبل لرایتہ... ". کب آسان ہو جاتا ہے؟ جب انسان دل لگا کر، مانوس ہو کر، لطف اندوز ہونے لگتا ہے تو پھر قولا ثقیلا نہیں رہتا. أن تجعل القرآن ربيع قلبي، ونور بصري، وجلا حزني، وذهب همي وغمي.  جیسے نماز کے بارے میں آتا ہے: "و انہا لکبیره الا علی الخاشعین" کہ نماز بھی بھاری ہوتی ہے، مگر جب ہم خشوع سے پڑھتے ہیں اور اس سے لطف اندوز ہوتے ہیں تو پھر نہیں ہوتی. نبی آکرم نماز کو آنکھوں کی ٹھنڈک کہتے تھے.  قرآن کا اترنا بهاري تھا . حضرت زید بن ثابت  رضی الله عنہ کی روایت ہے: کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس دو زانو ہو کر بیٹھے تھے. کہ وہی نازل ہی، تو انھیں یوں لگا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھٹنے کے بوجھ سے میرا گھٹنا ٹوٹ جاۓ گا. حضرت عائشہ کی روایت ہے: سخت سردی کے موسم میں جب وہی نازل ہوتی تو آپ کے چہرے سے پسینے کی لہریں بہنے لگ جاتی تھیں. ایک اور روایت حضرت عائشہ ہی سے ہے: وہی اترنتے وقت اگر آپ اونٹنی پر ہوتے تو اونٹنی ھل نہیں سکتی تھی اور اسکا سینہ زمین پر لگ جاتا تھا، آپ پر بوجھ پڑتا تھا اور اگر کوئی پاس ہوتا تھا تو اسکو بھی محسوس ہوتا تھا.
ہر ماں باپ کی خواہش ہوتی ہے کہ بچے حافظ ہو جایں. بہت مشکل ہوتا ہے. بھار ی کلام ہے. لیکن اگر سمجھ کر پڑھا جائے تو آسان ہو جاتا ہے یاد کرنا.

٦: رات کا اٹھنا، کھڑا ہونا، نشو نما. جیسے بیج سے پھر پودا نشو نما پاکر کھڑا ہوتا ہے. سو کر اٹھنا. اصل تہجد سو کر اٹھنے سے ہوتا ہے. یہ عمل مضبوط ہے،نفس کچلنے میں. نفس کشی. پھر کھڑے ہو کر ترتیل کے ساتھ قرآن پڑھنا. نفس کی اصلاح کا مجرب نسخہ ہے. ایک دین کی دعوت دینےوالے کے لئے کے لئے لازمی ہے. خود الله تعالیٰ  سے تعلق مضبوط رکھیں گے تبھی دوسروں کو بھی الله تعالیٰ  کی طرف بلا سکیں گے. اس وقت دماغ تازہ بھی ہوتا ہے. قرآن اپنے اندر جزب کرنے کا بہترین وقت ہے. پھر بات میں بھی مضبوطی آتی ہے. تہجد کی نماز سے confidence ہوتا ہے. قران میں غور و فکر کے لئے بہترین ہے. اس وقت گہرے قسم کے خیالات آتے ہیں.  روز کا سبق صبح سویرے ترتیل کے ساتھ پڑھیں تو بہت فایدہ ہو گا. رات کے وقت دعائیں قبول ہوتی ہیں. اللہ کا قرب جو نصیب ہوتا ہے. حدیث میں آتا ہے: جب رات کا تیسرا حصہ رہ جاتا ہے تو ہمارا پروردگار پہلے آسمان پراجلال فرماتا ہے اور فرماتا ہے کہ کون ہے جو مجھ سے دعا مانگ رہا ہے کہ میں اس کی دعا قبول کرلوں، کون ہے جو مجھ سے سوال کر رہا ہے تو میں اسکو دوں. کون ہے جو گناھون کی معافی مانگتا ہے تو میں اسکو معاف کردوں. الله تعالیٰ  خود متوجہ ہیں ہماری طرف. و بالأسحار هم يستغفرون.
تين آدمیوں کو دیکھ کر الله تعالیٰ  خوش ہوتا ہے: ١) تہجد پڑھنے والا،٢) نماز کے لئے اپنی صفوں کو درست کرنے والا، ٣) جب مجاہد فی سبیل الله صف بندی کرتے ہیں. اسی لئے دو وقت کی دعا رد ہی نہیں کی جاتی،  ایک تکبیر کے وقت اور دوسرا میدان جنگ میں صف بندی کے وقت   Discipline .   ترمزی کی روایت ہے: سب سے زیادہ بندہ اللہ کا قرب رات کے آخری حصے میں حاصل کرتاہے. اگر تم سے ہو سکے تو تم اس وقت الله تعالیٰ  کی یاد کرنے والوں میں سے ہو جاؤ.

٧: مصروفیت ہے دن کے وقت. بہت کام ہوتے ہیں. سبحا:کے دو معنے ہیں، ایک تو مصروفیت. دوسرا ذکر اور تسبیح.  جس جگہ بیٹھ کر انسان الله تعالیٰ  کا ذکر کرے، ان جگہوں کی value  ہو جاتی ہے. سبحا کو اگر تسبیح کے معنون میں لیں تو : دن میں تو آپ چلتے پھرتے تسبیح کر سکتے ہیں. لیکن قرآن توجہ سے رات کی تنہائی میں بہتر ہے.

٨: یاد کرو، ذکر کرتے رہو. اور منقطع ہو جاؤ اسکی طرف، عبادت کے وقت. یہ نہیں کہا جا رہا کہ لوگوں سے ملنا جلناچھوڑ دیں. جب بندوں کے ساتھ معاملہ ہو تو اس وقت بھی الله تعالیٰ  کی یاد. لیکن جب الله تعالیٰ  سے تعلق ہو عبادت کے وقت تو اس وقت منقطع ہو جاؤ. الله تعالیٰ  سے تعلق ہر تعلق پر چھا جاۓ. الله تعالیٰ  کی عبادت کے لئے خالص ہو جاؤ. کچھ  interruption نہیں. اپنے آپ کو کاٹ کر focus کریں. دلی طور پر. اسی سے آپ کا الله تعالیٰ  سے یکسوئی کے ساتھ تعلق ہو گا.

٩: پکڑ لو الله تعالیٰ  کو وکیل بنا کر. وکیل وہ ہوتا ہے جس کے سپرد انسان اپنا معاملہ کر دیتا ہے. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ترک دنیا اس کا نام نہیں کہ تم انے اوپر الله تعالیٰ  کی حلال کی ہوئی چیز حرام کر لو، یاجو مال تمہارے پاس ہو اسے خواہ مخواہ اڑا دو کہ الله تعالیٰ  دے گا، تو ہم تو اسکی طرف کٹ کر متوجہ ہو رہے ہیں. بلکہ ترک دنیا اس کا نام ہے کہ تمہارا اعتماد الله تعالیٰ  پر زیادہ ہو بنسبت جو آپ کے ہاتھ میں ہے یا لوگوں کے ہاتھ میں ہے.  مشرق و مغرب اسکا ہی ہے .

١٠: لوگوں کی باتوں کی پرواہ نہ کریں. کفّار مکّہ جو آپ کے لئے باتیں کرتے تھے. انکی باتوں کو برداشت کر لیں. اور خوبصورتی کے ساتھ اعراض برتیں.  سبق آج کل کے حالات میں.

١١: مہلت دو انکو، آہستہ اور نرمی سے مہلت دینا. اگر نرمی سے ڈھیل نا دی جاۓ تو عمر اور خالد بن ولید کیسے مسلمان ہوتے؟ ولید بن مغیرہ کے بیٹے. اسلام کو تقویت  ہمیشہ نیے داخل ہونے والوں سے ہوتی ہے.

١٢: ساتھ میں الله تعالی کفّار کو خوب دھمکیاں دے رہے ہیں. ہمارے پاس سخت اہنی لگامآ، لوہے کی بیڑیاں، اور جہنم کی آگ ہیں انکے لئے.
١٣: گلے میں اٹکنے والے کھانا، کیا مراد ہے؟ زرقوم.  اور درد ناک عذاب.

١٤: جس دن زمین ہلے گی. اور پہاڑ . ریت کے ٹیلے بن جایں گے. بھربھرے. پتھر ریت بن جاۓ گا. نہ ٹھرنے والی.

١٥: اہل مکّہ کی طرف رسول بھیجا. جیسا کے موسیٰ کو فرعون کی طرف.

 ١٦: پکڑ لیا ہم نے اسکو پکڑ سخت. وبال (وبال) اور وابل ( موسلا دھار بارش).

١٧: تم کس طرح بچ سکو گے اے اہل مکّہ، اس دن جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا. جب فرعون کا ذکر آتا ہے تو آسیہ کو جس طرح ستایا تھا اس نے وہ بھی دھیان میں رکھیں.

١٨: شگاف پڑ جایں گے آسمان میں.

١٩: جو کوئی بھی چاہے تو اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے.

٢٠: شان نزول: صحابہ کرام بہت زیادہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قیام کرنے لگے اور وقت کا پتہ ہی نہیں چلتا تھا. تو الله تعالیٰ  نے تخفیف کر دی.  یہ صرف رمضان کی تراویح نہیں ہے. بلکہ دوسرے دنوں میں قیام الیل میں شامل ہوتے تھے. اس نے جان لیا ہے کہ تم حساب نہیں رکھ سکھتے. تو وہ تم پر مہربان ہو گیا. تو جتنا بھی تم پڑھ سکو. اگر قرآن پڑھنے سے مراد تہجد کی نماز لیا جاۓ، تو دو رکعت بھی پڑھ لو تو تہجد (قیام الیل)  ہو جاۓ گی. اور اگر قرآن کی تلاوت مراد ہے: تو یہ حکم عام بھی ہے، کہ قرآن اتنا پڑھنا چاہیے جتنا اپنے میں سہولت کے ساتھ absorb  کر سکیں. تم میں سے کچھ مریض ہوں گے یا مسافر business trip پر. الله تعالیٰ  کا فضل تلاش کرنے کے لئے. اور کچھ دوسرے الله تعالیٰ  کی رہ میں قتال کر رہے ہونگے. تو جتنا پڑھ سکو پڑھ لو. لیکن پڑھنا ضروری ہے. جنگوں میں بھی علم کے حلقے ہوتے تھے، نماز کو lead بھی کرتے تھے. قرآن نہیں چھوڑ سکتے.  قرض حسنہ: صرف مال نہیں بلکہ ہر کام میں. نفل کے لئے. جتنا جس کا حوصلہ. Reward  کی توقع کیے بغیر جومال و وقت الله تعالیٰ  کی راہ میں لگایا جاۓ.
اور الله تعالیٰ  سے بخشش مانگتے رہو،کیونکہ ہر نیکی اپنے ساتھ غلطی کا امکان رکھتی ہے. یہ guilt کیسے کم کرو؟ استغفار سے. سارے کام کرنے کے بعد اپنی استطاعت کے مطابق. لیکن ہر کام میں مداومت ضروری ہے. پھر اسکے بعد الله تعالیٰ  سے اپنی غلطیوں کی معافی مانگیں. بیشک الله تعالیٰ  غفور رحیم ہے. ہم کچھ نہ کر کے بھی کہتے ہیں کہ اللہ غفور رحیم ہے.       

Sunday, September 16, 2012

Why Dignify YAWN?

I chalked it up to YAWN and moved on.

Yet Another Wannabe Nobel-laureate trying his hands at a camcorder.  But I never figured it would attract an iota of our attention.  Not after years and years of the same old Islam-bashing and Islam-o-phobic rhetoric.  Why would we switch channels from watching NFL to catch yet another reminder from So. Cal. that the so called freedom of speech is alive and well from sea to shining sea? Certainly, and especially, not when we are still fresh from bashing Ahmadinejad for exercising his freedom of speech - albeit not a speech in our language and certainly not a speech we'd love to hear week in and week out!

But above all, most certainly, not after we fully understand what our Lord Told us about how He Elevated our beloved Prophet's name above all humanity.

و رفعنا لك ذكرك 

And we raised high for you your esteem. (94:4)  

Prophet Muhammad's (peace be upon him) name is mentioned right after the name of our Lord in every call for prayer.

Then why worry?  Why dignify YAWN?

Why bother?  Why resort to such violent protest when our Prophet's Honor is Guaranteed by our Lord?  Why can't we instead emulate and follow our beloved Prophet's noble character of the highest caliber, 

وإنك لعلي خلق عظيم

And indeed you are of a great moral character (68:4)

and show restrain and patience?  

No one could tarnish Muhammad's (PBUH) name.  And certainly no one could even come close to putting out the Light of our Lord no matter how much they try.

 يريدون  ليطفو نور الله بأفواههم والله متم نوره ولو كره الكافرون 

They intend to put out the Light of Allah with their mouths, but Allah Will Perfect His Light no matter how much the disbelievers may dislike it. (61:8)

It is so sad that our friend, our ambassador, Christopher Stevens gave his life because of our violent outburst when we should have stayed calm and showed some patience.

Instead we ended up siding with those very imbeciles who are out to hurt Islam. And we did that by stooping to their level.

We abandoned the high moral character that was the hallmark of our beloved Prophet Muhammad, peace be upon him.

Thursday, July 5, 2012

Surah Al-Toor



١: طور  پر اللہ تعالیٰ نے موسیٰ  علیہ السلام  سے خطاب کیا تھا. وادی کو ذی طویٰ کہا جاتا ہے. جبل حرا کے بعد سب
سے زیادہ مقدّس، اور افضل پہاڑ.  بقعہ مبارکہ  کہا جاتا ہے.
 ٢: کتاب مسطور : لکھی ہوئی کتاب. وادی سینا میں تورات ملی تھی موسیٰ  علیہ السلام کو. یا تو تورات مراد ہے یا پھر قرآن. بہت ہی عظمت والی چیزوں کی قسم کھائی جا رہی ہے. سطر قطار کو کہتے ہیں.
٣: رق : پتلی اور نرم چیز کو. چمڑے پر لکھی گیی. منشور: کھلی ہوئی. مراد قرآن مجید.
٤: آباد کیا ہوا گھر. خانہ کعبہ مراد ہے یا پھر وہ جو ساتویں آسمان پر جہاں ابراھیم  علیہ السلام کو بھیٹے دیکھا.ہر وقت طواف ہوتا رہتا ہے. آباد رہتا ہے . دن ہو یا رات. دنیا میں اتنی رونق کہیں اور نہیں ہے.
٥: سقف : چھت : مرفوع : اونچی.
٦: بھرا ہوا سمندر. یا تو زمین کا سمندر، یا پھر عرش کا سمندر. راجح بات زمین کا سمندر ہے.روکا ہوا. سمندر کئی بار اللہ تعالیٰ سے فریاد کرتا ہے کے مجھے اجازت دیںتو میں لوگوں کو ڈبو دوں.
یہ سب بڑی بڑی چیزیں ہم کو اللہ کی یاد دلاتی ہیں. اللہ کی نشانی اور قدرت کی  .
اللہ کا عذاب آنے والا ہے. قرآن پاک کی سخت آیتوں میں سے ہے. حضرت عمر نے یہ آیت پڑھی تو ایک سرد آہ بھری اور ٢٠ دیں تک بیمار رہے.  لوگوں نے عیادت کی اور پوچھا کے کیا ماجرا ہے. تو انہوں نے بتایا کے یہ آیت میرے دل سے نہیں جاتی. کہ کہیں زمین کا لاوا نہ پھٹ پڑے ، کہیں ھوا   بے لگام نہ ہو جاۓ، کہیں بارش زیادہ نہ ہو جاۓ .پہاڑ کسی وقت بھی غبار کی طرح اڑا ے  جا سکتے ہیں.
کوئی اس عذاب کو دور نہیں کر سکتا.
جبیر بن متن جو ابھی مسلمان نہیں ہوئے تھے، تشریف لاے ، بدر کے قیدیوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کرنے. رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کی نماز میں سوره طور پڑھ رہے تھے. وہ اس آیت کو سن کر ایمان لے اے.
٩: آندھی کی وجہ سے درخت کے جھولنے کو کہتے ہیں مور آسمان کا ہلنا، قیامت کے دن آسمان اپنا توازن کھو دے گا.
١٠: اور پہاڑ چلنا شروع کر دیں گے.
١١: پس ہلاکت ہے اس دن. جھٹلانے والوں کے لئے. وہ لوگ جو بیکار باتوں میں الجھے ہوئے ہیں.جو اپنا وقت بیکار کے تبصروں میں لگا دیتے ہیں.ہم اپنا جائزہ لیں کہ ہم کن باتوں میں لگے ہوئے ہیں.لا حاصل،کھل تماشے کی باتوں پر، لوگوں کے بارے میں تجسّس . ان کو خوض کہتے ہیں.فضولیات.صرف مشرکین مکّہ کے لئے نہیں ہے. ہم سب کے لئے ہے.
جس دن وہ دھکے دے جایں گے جہھنم کی طرف، ان سے پوچھا جاۓ گا.اسی کو تم جھٹلاتے تھے؟ یہ جادو نظر آتا ہے تم کو؟ کیوں کہ وہ وحی کو جادو کہا کرتے تھے. پھر صبرکرو یا نہ کرو، اس تکلیف کو دور نہ کر پاؤ گے.
بیشک متققی لوگ باغوں میں ہوں گے. ھنس مکھ ہوں گے.اللہ کی طرف سے ملنے والے انعامات پر. اور ان کا رب ان کو عذاب سے بچا لے گا، کیوں کے انہوں نے اپنے رب سے دنیا میں عذاب سے نجات کی دعا مانگی تھی.
ھنا: پر لطف ، خوشگوار.
بما: بوجہ : سبب کی" ب" ہے. عوض کی نہیں.
تکیہ لگاۓ ہوئے ہوں گے، ایسی   مسندیں جو قطار در قطار ہوں گی. آرام دہ ہوں گی.
اور ہم ان کو بیاہ دیں گے بڑی آنکوں والی سے. یعنی خوبصورت عورتوں سے.
اور جو لوگ ایمان لاۓ، اوران کی اولادیں جنہوں نے اپنے ماں باپ کا اتباع کیا، ان کو ملا دیں گے.وہاں اکہٹا کر دیں گے. اولاد کی دعا سے ماں باپ کے درجات بلند ہوں گے.
انسان جب فوت ہو جاتا ہے تو اسکا اپنا عمل ختم ہو جاتا ہے. مگرتین چیزیں جن کا ثواب جاری رہتا ہے.١) نیک اولاد کی دعا،٢) وہ علم جس سے لوگ  فیضیاب ہوں. اور٣) صدقہ جاریہ.
ہر شخص اپنے اعمال کی بنا پر گرفتار ہے.جو عبادت کرے گا وہ اپنے آپ کو چھڑا لے گا، کچھ لوگوں کو شفاعت کام اے گی.جن کے نہ اپنے عمل اچھے اور نہ انکو کوی شفاعت دے، وہ گرفتار رہیں گے.
اور ہم انکو(متقی لوگوں کو) دیتے جایں گے،مدد طویل اور پھیلی ہوئی چیز کو کہتے ہیں،یعنی سلسلہ جاری رہے گا.
اور گوشت اس میں سے جو وہ چاہیں گے.
چھینا جھپٹی کریں گے، شراب جام  پر.ایک دوسرے کو پیش کریں گے،کوئی بد مزاجی نہ ہو گی.انس اور قلبی شرح صدر. نہ ہی کوئی گناہ کا کام ہو گا.نہ ہی بے ہودہ بات ہو گی.
جنّت کے خادمین ہوں گے. ایک آواز پر ایک ہزار خادم لببک کہیں گے، کیوں کہ دنیا میں انہوں نہ اللہ کی پکار پر لببک کہا. ایسے  خادم ہوں گے صاف ستھرے جیسے ڈبّے میں بند موتی.
انکو دیکھ دیکھ کر ہی دل خوش ہو گا.  اور آپس میں بات کرتے وقت ایک دوسرے کی طرف توجہ کریں گے.
ایک دوسرے سے سوال کریں گے، حال پوچھیں گے.
کہیں گے، اس سے پہلے ہم اپنے گھر والوں کے بیچ میں ڈر اور فکر ان کے لئے لے کرشفقت کے ساتھ رہتے تھے. ڈرنے والے تھے،١) گھر والوں کے لئے کہ کیں وہ برے انجام کو نہ پہنچیں ٢) جب ہم گھر والوں کے ساتھ بھیٹے ہوتے تھے تو ہم اللہ سے ڈرتے تھے.اللہ سے ڈرنے والے اندر اور باہر ہر جگہ ایک ہی طرح رہتے تھے. اہل: بیوی، پھر بچے. جب ایک انسان اللہ سے ڈرتا ہے اپنے اہل میں تو وہ پھر انصاف سے کام لیتا ہے. حسن معاملہ کرتے تھے. تو پھر اللہ نے ہم پر احسان کیا اور بچا لیا ہم کو سموم کے عذاب سے. سم کہتے ہیں زہر کو، عذاب السموم ، زہریلا عذاب. گھر والے سب ہر وقت اللہ تو یاد کرتے تھے. اور عذاب سے بچاؤ کی دعا کرتے تھے.

ریب المنوں  سے مراد گردش زمانہ.


پس نصیحت کیجئے . لوگ آپ پر الزام لگاتے ہیں. کہ کاہن ہیں.ایک عام مرض تھا اس زمانے میں .
بلکہ وہ ایمان نہیں لاتے. قرآن جیسی بات لے کر ایں. کیا وہ بے مقصد پیدا کے گئے، یا وہ خود ہی خالق ہیں؟ کیا انکے پاس ہیں خزانے رب کے. مصیطر: وہ شخص جو کسی چیز پر مسلّط ہو، ذمّہ دار ہو.
اسکے لئے تو ہوں بیٹیاں اور تمہارے لئے بیٹے؟ یہاں پر انکے سارے سوالات کے جواب میں ان سے سوال کے جا رہے ہیں.
کیا انکے پاس غیب کا علم ہے.
٤٥: یوم سے مراد یا تو بدر کا دن یا پھر قیامت کا دن.
٤٧: دون ذالک : دنیا کے عذاب کے علاوہ.
٤٨: حین تقوم : نماز کے قیام میں، مجلس کے اختتام پر، سونے سے بیدار ہونے پر.
٤٩: رات میں سونے سے پہلے تسبیح.اور قیام الیل کے وقت.
 ہمارے لئے سبق اس آیت میں: اللہ کی عبادت ، پھر صبر سے کام لیتے ہوئے تبلیغ اور دوسرے کام اللہ کی راہ میں کریں اور لوگوں سے تکلیف پہنچے تو تسبیح سے کام لیں.